المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2602
وَحَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحْرِزٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا ، أَوْ دَمًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا هُجِيتُ بِهِ " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا اندرون (پیٹ) پیپ یا خون سے بھر جانا اس کے لیے اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ وہ ایسے اشعار سے بھر جائے جن کے ذریعے میری ہجو (مذمت و برائی) کی گئی ہو۔“
اس حدیث کی سند جید ہے اور اس میں مذکور الفاظ «هُجِيتُ بِهِ» یعنی ”جس میں میری ہجو کی گئی ہو“، اس وعید کو خاص طور پر ان اشعار سے متعلق کرتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی یا ہجو کی گئی ہو، اور یہی مفہوم اس مقام پر کلامِ نبوی کی بلاغت کے عین مطابق ہے۔