المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2601
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِعْرِ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا قَصِيدَةَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ فِي أَهْلِ بَدْرٍ ، وَقَصِيدَةَ الْأَعْشَى فِي ذِكْرِ عَامِرٍ ، وَعَلْقَمَةَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے زمانہ جاہلیت کے اشعار (پڑھنے اور سننے) کی رخصت عطا فرمائی، سوائے امیہ بن ابی الصلت کے اس قصیدے کے جو اس نے اہل بدر (کے مشرکین) کے بارے میں کہا تھا، اور اعشیٰ کے اس قصیدے کے جس میں اس نے عامر اور علقمہ کا تذکرہ کیا تھا۔“
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 2601) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابوبکر الہذلی نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف اور متروک الحدیث ہے، اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔