❮
❯
حدیث نمبر: 2600
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا هُذَيْلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ دُخَانٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا الشِّعْرَ جَزْلٌ مِنْ كَلَامِ الْعَرَبِ ، يُعْطَى بِهِ السَّائِلُ ، وَيُكْظَمُ بِهِ الْغَيْظُ ، وَبِهِ يَبْلُغُ الْقَوْمُ فِي نَادِيهِمْ " .
ترجمہ

قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ شاعری اہل عرب کے کلام کا ایک نہایت فصیح، بلیغ اور پُرمغز حصہ ہے، اس کے ذریعے سائل کو (مال و متاع) عطا کیا جاتا ہے، اسی کے واسطے سے غصے کو پی لیا جاتا ہے اور اسی کی بدولت لوگ اپنی مجلسوں میں (اپنے بلند مرتبے اور مقاصد تک) پہنچ جاتے ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں ایک راوی کے مبہم ہونے کے باعث یہ ضعیف ہے، اسے امام طبرانی نے ”المعجم الکبیر“ (1301) میں تخریج کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»