المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : رَحِمَ اللهُ لَبِيدًا ، قَالَ :
ذَهَبَ الَّذِينَ يُعَاشُ فِي أَكْنَافِهِمْ وَبَقِيتُ فِي خَلْفٍ كَجِلْدِ الْأَجْرَبِ فَكَانَ أَبِي يَقُولُ : رَحِمَ اللهُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَكَيْفَ لَوْ رَأَتْ زَمَانَنَا هَذَا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے (مشہور شاعر لبید بن ربیعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) فرمایا: اللہ تعالیٰ لبید پر رحم فرمائے «رَحِمَ اللهُ لَبِيدًا» کہ انہوں نے کہا تھا: ”وہ با مروت اور عظیم المرتبت لوگ تو رخصت ہو گئے جن کے سایہِ عاطفت اور پناہ میں زندگی خوشگواری سے بسر کی جاتی تھی اور اب میں ایسے ناخلف لوگوں میں پیچھے رہ گیا ہوں جو (بدصورتی اور حقارت میں) خارشی کھال کی مانند ہیں“۔ (راویِ حدیث ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ) پھر میرے والد (عروہ بن زبیر) یہ دعا دیا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے «رَحِمَ اللهُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا»، بھلا اگر وہ ہمارا یہ (بگڑا ہوا) زمانہ دیکھ لیتیں تو ان کی کیفیت کیا ہوتی (یعنی وہ اسے کس قدر ناپسند فرماتیں)؟