المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ فِي بَيْتٍ مِنْ شِعْرِهِ ، قَالَ :
رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " قَالَ :
وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءُ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ
تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً
، وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امیہ بن ابی الصلت کے اشعار کی تصدیق فرمائی، اس نے (عرش اٹھانے والے فرشتوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے) کہا: ”ایک انسان کی صورت میں ہے اور ایک بیل ہے جو اس کے دائیں قدم کے نیچے ہے، جبکہ دوسرے قدم کی جانب ایک عقاب ہے اور ایک شیر ہے جو تاک لگائے بیٹھا ہے“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ پھر اس نے (سورج کے طلوع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے) کہا: ”اور سورج ہر رات کے اختتام پر سرخی مائل نکلتا ہے اور صبح ہوتے ہی اس کی رنگت گلاب کی طرح سرخ و سپید ہو جاتی ہے، وہ (باہر نکلنے سے) اباء و انکار کرتا ہے اور اپنی سہولت سے ہمارے سامنے نہیں آتا مگر یہ کہ اسے (فرشتوں کی جانب سے) زجر و توبیخ کی جائے یا اسے کوڑے لگائے جائیں“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں محمد بن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے جس کی بنا پر یہ روایت حسن کے درجے پر فائز ہے۔