المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الشعر باب: شاعری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2597
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ مِنَ الْأَشْعَارِ :
........................... وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ .
أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي أُسَامَةَ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ زَائِدَةُ ، وَرِوَايَةُ غَيْرِهِ عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”نبی کریم ﷺ (کبھی کبھی) اشعار میں سے بطور مثال یہ مصرع پڑھا کرتے تھے: «وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ» ”اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے کوئی زادِ راہ (یا معاوضہ) فراہم نہیں کیا ہو گا۔“
اسے امام بزار نے ابواسامہ کے طریق سے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کو (سماک سے) نقل کرنے میں زائدہ نامی راوی منفرد ہیں، جبکہ دیگر رواۃ نے اسے سماک کے واسطے سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔