المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العطاس وَالْأَدَبِ فِيهِ باب: چھینک اور اس کے سلسلے میں ملحوظِ خاطر رکھے جانے والے آداب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلِ : الْحَمْدُ لِلهِ " ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا : يَرْحَمُكَ اللهُ " ، قَالَ الرَّجُلُ : مَا أَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں چھینک ماری اور دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں (ایسے میں) کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم «الْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہو۔“ پھر وہاں موجود لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم اسے (جواب میں) کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“۔“ اس شخص نے پھر سوال کیا کہ میں انہیں (پلٹ کر) کیا جواب دوں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کہو: «يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال و احوال درست فرما دے“۔“
اس حدیث کی سند میں موجود راوی محمد بن ابی معشر ضعیف ہے، تاہم چھینک کے آداب اور ان کلمات کا ثبوت دیگر صحیح احادیثِ مبارکہ سے ملتا ہے۔