المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العطاس وَالْأَدَبِ فِيهِ باب: چھینک اور اس کے سلسلے میں ملحوظِ خاطر رکھے جانے والے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2595
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ هُوَ ابْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ حَدِيثًا فَعَطَسَ عِنْدَهُ فَهُوَ حَقٌّ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی بات بیان کرے اور اس کے پاس (یعنی اسی دوران کسی کو) چھینک آ جائے، تو وہ بات برحق اور سچی ہے۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس کے راوی معاویہ بن یحییٰ الصدفی جمہور کے نزدیک ضعیف ہیں اور بقیہ بن ولید مدلس ہیں؛ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب ”سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ“ میں موضوع قرار دیا ہے، نیز امام نووی اور دیگر محققین نے بھی اس کی صحت کا انکار کیا ہے۔ (تخریج: مسند ابی یعلیٰ: 2595)