❮
❯
حدیث نمبر: 2594
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ ؟ قَالَ : " بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا وَلَمْ يَشْهَدُوا جِنَازَةً " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کی صبح کیسی ہوئی؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا وَلَمْ يَشْهَدُوا جِنَازَةً» ”ہم ان لوگوں سے بہتر حال میں ہیں جنہوں نے نہ تو کسی بیمار کی تیمارداری کی ہے اور نہ ہی کسی جنازے میں شرکت کی ہے۔“
مسند ابی یعلیٰ: 2604، اس کی سند میں حبیب بن ابی ثابت مدلس ہیں اور انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی، تاہم حدیث کا متن نیکی اور سماجی بھلائی کے کاموں کی ترغیب پر مشتمل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2594
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف؛ فيه تدليس ولم يصرح بالسماع. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 211، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2676»