المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قيل لَهُ كيف أصبحت باب: «صبح کیسی ہوئی؟» پوچھے جانے پر جواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2594
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ ؟ قَالَ : " بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا وَلَمْ يَشْهَدُوا جِنَازَةً " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کی صبح کیسی ہوئی؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا وَلَمْ يَشْهَدُوا جِنَازَةً» ”ہم ان لوگوں سے بہتر حال میں ہیں جنہوں نے نہ تو کسی بیمار کی تیمارداری کی ہے اور نہ ہی کسی جنازے میں شرکت کی ہے۔“
مسند ابی یعلیٰ: 2604، اس کی سند میں حبیب بن ابی ثابت مدلس ہیں اور انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی، تاہم حدیث کا متن نیکی اور سماجی بھلائی کے کاموں کی ترغیب پر مشتمل ہے۔