المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّظَرِ فِي المرآة وأدب الْكُحْلِ والتنعل والتيمن فِي ذَلِكَ باب: آئینہ دیکھنے، سرمہ لگانے، جوتا پہننے کے آداب اور ان تمام امور میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي حَسَّنَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي " ، وَإِذَا اكْتَحَلَ جَعَلَ فِي كُلِّ عَيْنٍ اثْنَتَيْنِ وَوَاحِدًا بَيْنَهُمَا ، وَإِذَا لَبِسَ نَعْلَيْهِ بَدَأَ بِالْيُمْنَى ، وَإِذَا خَلَعَ خَلَعَ الْيُسْرَى ، وَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ أَدْخَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي كُلِّ شَيْءٍ أَخْذًا وَعَطَاءً .
يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ضَعِيفٌ جِدًّا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آئینے میں اپنا رخِ انور ملاحظہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي حَسَّنَ خَلْقِي وَخُلُقِي ، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے میری ظاہری صورت اور باطنی سیرت کو عمدہ بنایا، اور مجھ میں ان اعضاء کو زینت بخشی جو دوسروں میں عیب دار ہو سکتے تھے۔“ اور جب آپ ﷺ سرمہ لگاتے تو ہر آنکھ میں دو دو سلائیاں لگاتے اور ایک سلائی دونوں کے درمیان (مشترک طور پر) لگاتے تھے، اور جب آپ ﷺ اپنے نعلین مبارک پہنتے تو دائیں پاؤں سے آغاز فرماتے، اور جب اتارتے تو پہلے بایاں پاؤں نکالتے تھے، اور جب مسجد میں داخل ہوتے تو اپنا دایاں پاؤں پہلے داخل فرماتے تھے، اور آپ ﷺ ہر معاملے میں، خواہ وہ کچھ لینا ہو یا دینا، دائیں جانب کو مقدم رکھنے (تیمن) کو پسند فرماتے تھے۔
یحییٰ بن علاء نہایت ضعیف راوی ہے۔