المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ كَرَاهَةِ النَّوْمِ بَعْدَ الْعَصْرِ باب: عصر کے بعد سونے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2592
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَامَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَاخْتُلِسَ عَقْلُهُ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص عصر کے بعد سوئے اور پھر اس کی عقل چھین لی جائے (یعنی اس کا ذہنی توازن بگڑ جائے) تو وہ (اس نقصان پر) اپنے سوا کسی اور کو ہرگز ملامت نہ کرے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عمرو بن الحصین نامی راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، اسی بنا پر محدثین نے اس روایت کو غیر مستند اور ضعیف قرار دیا ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ میں ذکر کیا ہے۔