❮
❯
حدیث نمبر: 2588
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ : طَارِقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّؤَاسِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ارْضَ عَنِّي ، فَأَعْرَضَ ثَلَاثًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاللهِ إِنَّ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيُتَرَضَّى فَيَرْضَى ، فَارْضَ عَنِّي ، قَالَ : فَرَضِيَ عَنِّي .
ترجمہ

سیدنا عمرو بن مالک الرواسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! «ارْضَ عَنِّي» ”مجھ سے راضی ہو جائیے“، تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ (میرا تقاضا سن کر) اپنا رخِ انور پھیر لیا، میں نے پھر عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! بلاشبہ رب تبارک و تعالیٰ سے بھی جب رضا و خوشنودی طلب کی جاتی ہے تو وہ راضی ہو جاتا ہے، لہٰذا آپ بھی مجھ سے راضی ہو جائیے“، تو آپ ﷺ مجھ سے راضی ہو گئے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (2588) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں طارق نامی راوی مجہول (غیر معروف) ہے، جس کے باعث یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم محدثین نے اسے فضائل و مناقب کے ضمن میں نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2588
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6843، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3245 / 2»