المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ تتبع العورات باب: دوسروں کے عیوب کی ٹوہ میں رہنے اور ان کی پردہ پوشیدہ باتوں کی جستجو کرنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي بُيُوتِهَا ، أَوْ فِي خُدُورِهَا ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ تَتَبَّعَ اللهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَوْرَتَهُ فَضَحَهُ فِي جَوْفِ بَيْتِهِ .سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مرتبہ (اتنی بلند آواز میں) خطاب فرمایا کہ آپ ﷺ نے گھروں یا ان کے پردوں میں مقیم دوشیزاؤں تک کو اپنی آواز سنا دی، پس آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے وہ گروہ جو محض اپنی زبان سے ایمان لائے ہو! مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور نہ ہی ان کے پوشیدہ عیوب و نقائص کی ٹوہ میں رہا کرو، کیونکہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کے پیچھے پڑ جاتا ہے، اور اللہ عزوجل جس کے عیوب کے درپے ہو جائے تو اسے اس کے گھر کے اندر ہی (لوگوں کے سامنے) ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔“
مسند ابی یعلی: 2589، اس کی سند حسن ہے، اور علامہ البانی نے دیگر شواہد کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔