المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الاعتذار باب: معذرت خواہی اور عذر پیش کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2587
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَلَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهِ مِثْلُ مَا عَلَى صَاحِبِ مَكْسٍ " ، يَعْنِي : الْعَشَّارَ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی (اپنی کسی خطا یا کوتاہی پر) معذرت طلب کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں حاضر ہوگا کہ اس پر اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا کہ (ناحق) ٹیکس یا چنگی وصول کرنے والے پر ہوتا ہے“، یہاں مراد وہ شخص ہے جو لوگوں سے زبردستی اور غیر شرعی محصول وصول کرتا ہے۔
اس روایت کی سند میں سیف بن محمد اور حسن بن عمارہ کذاب اور متروک راوی ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت موضوع (من گھڑت) یا سخت ضعیف قرار پاتی ہے۔