المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْخُلُقُ الْحَسَنُ " ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " الْخُلُقُ الْحَسَنُ " فَأَعَادَ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ ، فَإِمَّا أَقَامَهُ وَإِمَّا أَقْعَدَهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَأَنْتَ طَلِيقٌ " ، قَالَ : ثُمَّ مَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَسِّنُ الْخُلُقَ الْحَسَنَ ، وَيَقُولُ : " هُوَ مِنَ اللهِ " ، وَيُقَبِّحُ الْخُلُقَ السُّوءَ " وَيَقُولُ : هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ " .سیدنا مطرف بن عبداللہ بن الشخیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”ایمان کا کون سا درجہ سب سے بہتر ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عمدہ اخلاق۔“ اس شخص نے دوبارہ وہی سوال کیا، آپ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا: ”عمدہ اخلاق۔“ اس نے تیسری یا چوتھی مرتبہ پھر سوال دہرایا، تو آپ ﷺ نے اسے (توجہ دلانے کے لیے) کھڑا کیا یا بٹھایا اور ارشاد فرمایا: ”(خوش اخلاقی یہ ہے) کہ تم اپنے بھائی سے اس حال میں ملاقات کرو کہ تمہارا چہرہ کھلا ہوا اور پُرمسرت ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ مسلسل حسنِ اخلاق کی مدح فرماتے رہے اور ارشاد فرماتے رہے: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام ہے۔“ اور آپ ﷺ بد اخلاقی کی برائی بیان کرتے اور فرماتے: ”یہ شیطان کی جانب سے ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے غصے کی علامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”کیا تم اس شخص کی آنکھوں کی لالی اور اس کی گردن کی رگوں کے پھول جانے کو نہیں دیکھتے؟“
المطالب العالیہ: 2583، مسند ابی یعلی: 2893، اس حدیث کی سند میں عبد العزیز بن ابان نامی راوی متروک ہے، تاہم حسنِ اخلاق کی اہمیت اور فضیلت دیگر مستند احادیث سے ثابت ہے۔