المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2582
حَدَّثَنَا الْحَلْبَسُ الْحَنْظَلِيُّ التَّمِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَلَامٍ أَوِ ابْنِ سَلَامٍ الْخُرَسَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَاءَ خُلُقُهُ عَذَّبَ نَفْسَهُ ، وَأَكْثَرَ هَمَّهُ ، وَأَسْقَمَ بَدَنَهُ ، وَمَنْ لَاحَى الرِّجَالَ ذَهَبَتْ كَرَامَتُهُ ، وَسَقَطَتْ مُرُوءَتُهُ " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے اخلاق بگڑ جائیں وہ گویا خود کو اذیت اور قلبی کرب میں مبتلا کر لیتا ہے، اپنے فکر و اندوہ میں اضافہ کر لیتا ہے اور اپنے بدن کو روگی بنا لیتا ہے، اور جو شخص لوگوں کے ساتھ کج بحثی اور جھگڑا مول لیتا ہے اس کی عزت و وقار رخصت ہو جاتا ہے اور اس کی مروت و انسانیت ختم ہو جاتی ہے۔“
[تخریج: اسے ابن ابی الدنیا نے 'مداراة الناس' (21) اور امام بیہقی نے 'شعب الایمان' (7645) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے]۔