المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2578
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَالْحَارِثُ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ يَزِيدُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي رَجُلٌ أُحِبُّ أَنْ أُحْمَدَ ، وَكَأَنَّهُ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتَمُوتَ فَقِيدًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ عَلَى تَمَامِ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ " .
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ .ترجمہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں ایسا انسان ہوں جو یہ پسند کرتا ہے کہ میری تعریف کی جائے“، اور وہ (یہ بات کہتے ہوئے) گویا اپنے نفس کے بارے میں (ریاکاری کے اندیشے سے) خوفزدہ تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اس بات سے کیا چیز مانع ہے کہ تم (نیکیوں کے ذریعے) قابلِ ستائش زندگی گزارو اور اس حال میں مرو کہ لوگ تمہاری کمی محسوس کریں، اور حقیقت تو یہی ہے کہ میں بہترین اخلاق کی تکمیل ہی کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں“۔
اسے امام بزار نے یزید کے واسطے سے روایت کیا ہے۔