المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2577
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ بِالْخُلُقِ الْحَسَنِ ، وَإِنَّهُ لَيُكْتَبُ جَبَّارًا وَمَا يَمْلِكُ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِهِ " .
2577 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ بِهِ .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ انسان اپنے حسنِ اخلاق کی بدولت (نفل) روزہ رکھنے والے اور راتوں کو عبادت کے لیے قیام کرنے والے کا بلند مرتبہ حاصل کر لیتا ہے، اور بے شک ایک شخص کا نام (اللہ کے ہاں) جابر و سرکش لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے حالانکہ وہ سوائے اپنے اہل و عیال کے کسی دوسرے پر کوئی اختیار یا اقتدار نہیں رکھتا ہوتا۔“
امام حارث اور امام احمد بن منیع نے اسے اپنی اپنی مسانید میں اسماعیل بن عیاش کی سند سے روایت کیا ہے۔