❮
❯
حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا الْكَوْثَرُ هُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ عَبْدٍ ، هَلْ تَدْرِي مَنْ أَفْضَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا ؟ " قَالَتْ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَاسِنُهُمْ أَخْلَاقًا ، الْمُوَطَّؤُونَ أَكْنَافًا ، لَا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ، وَحَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سیدہ امِ عبد رضی اللہ عنہا سے) دریافت فرمایا: ”اے امِ عبد! کیا تم جانتی ہو کہ ایمان کے اعتبار سے مومنوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ جو اپنے اخلاق میں سب سے بہترین ہوں، جو نہایت نرم خو، منکسر المزاج اور بااخلاق ہوں، اور کوئی بھی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقی روح کو نہیں پا سکتا جب تک کہ وہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے، اور یہاں تک کہ اس کا پڑوسی اس کی شر انگیزیوں، تکلیفوں اور آفات سے محفوظ و مامون نہ ہو جائے۔“
اس حدیث کی سند میں کوثر بن حکیم نامی راوی متروک اور سخت ضعیف ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم اس کے مختلف اجزاء اور مفاہیم دیگر صحیح احادیث و شواہد سے ثابت ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2570
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8718، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4019، وأخرجه مسند البزار برقم: 6175، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13326، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 4671»