❮
❯
حدیث نمبر: 2569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَاسِنُهُمْ خُلُقًا ، وَإِنَّ حُسْنَ الْخُلُقِ لَيَبْلُغُ دَرَجَةَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ " .
2569 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى بِهِ .
2569 \ 3 - وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فِرْغَامٍ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ زَكَرِيَّا بِهِ .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ هَكَذَا إِلَّا زَكَرِيَّا .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مؤمنوں میں ایمان کے حوالے سے سب سے زیادہ کامل وہ ہیں جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والے ہیں، اور بلاشبہ حسنِ اخلاق (بندے کو) روزے اور نماز کے درجے تک پہنچا دیتا ہے۔“
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں محمد بن مثنیٰ نے بھی اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔
اور ہمیں وہب بن یحییٰ بن فرغام القیسی نے زکریا کے واسطے سے اسی طرح یہ روایت بیان کی ہے، نیز امام بزار نے یہ بھی کہا کہ ہمارے علم کے مطابق زکریا کے علاوہ کسی نے اسے اس طرح (انہی اسناد و الفاظ کے ساتھ) روایت نہیں کیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ أَبُو يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایمان کے اعتبار سے مومنوں میں سب سے زیادہ کامل وہ شخص ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہتر اور عمدہ ہو۔“
یہ حدیث دیگر مستند شواہد کی بنا پر صحیح ہے اور کتبِ سنن میں اس مفہوم کی روایات موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 2003، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4799، وأخرجه فتح الباري برقم: 5688، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20157، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 523، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12678، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 7445، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5216/1»