المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا ذَرٍّ ، وَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ ، وَطُولِ الصَّمْتِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهُمَا " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! کیا میں تمہیں ایسی دو خصلتوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو پیٹھ پر (بوجھ کے اعتبار سے) نہایت ہلکی اور (قیامت کے دن اعمال کے) ترازو میں سب سے زیادہ وزنی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! (ضرور ارشاد فرمائیے)۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم حسنِ اخلاق اور طویل خاموشی کو اپنے اوپر لازم کر لو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! مخلوق نے ان دونوں (خصلتوں) کے مثل کوئی دوسرا عمل نہیں کیا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (3294) میں اور امام طبرانی نے المعجم الاوسط (6813) میں کی ہے، اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ (1938) میں صحیح قرار دیا ہے۔