المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حسن الخلق باب: حسنِ اخلاق کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ لَنْ تَسَعُوا النَّاسَ بِأَمْوَالِكُمْ ، فَلْيَسَعْهُمْ مِنْكُمْ بَسْطُ الْوَجْهِ ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ " .
2567 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ بِهِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم یقیناً اپنے مال و دولت کے ذریعے تمام لوگوں کی (ضروریات کی) کفالت نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان سب کو مال دے کر مطمئن کر سکتے ہو، لہٰذا تمہاری جانب سے لوگوں کے لیے خندہ پیشانی اور حسنِ اخلاق کی وسعت و کشادگی ہونی چاہیے (تاکہ وہ تمہارے اخلاق سے فیض یاب ہوں)۔“
اس حدیث کو امام ابو بکر بن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ادریس، عبداللہ بن سعید اور ان کے دادا کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے؛ نیز اسے امام ابو یعلیٰ نے بھی احمد بن عمران الاخنسی، محمد بن فضیل اور عبداللہ بن سعید کی سند سے اسی متن کے ساتھ نقل کیا ہے۔