❮
❯
حدیث نمبر: 2566
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ رَزِينٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا ، أَفَأَضْرِبُهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مِمَّا تَضْرِبُ مِنْهُ وَلَدَكَ " .
ترجمہ

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میری زیرِ کفالت و تربیت ایک یتیم بچہ ہے، تو کیا میں (اس کی اصلاح و تادیب کی خاطر) اسے مار سکتا ہوں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، تم اسے ان ہی امور کی وجہ سے مار سکتے ہو جن کی بنا پر تم اپنی حقیقی اولاد کو مارتے ہو۔“
اس حدیث کی سند میں حجاج بن ارطاة راوی موجود ہے جو کہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے یہاں سماع کی صراحت نہیں کی، نیز اس کی سند میں دیگر علتوں کی وجہ سے ضعف موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2566
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف؛ فيه تدليس ولم يصرح بالسماع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»