المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإحسان إِلَى اليتيم باب: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " ، وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، " وَالسَّاعِي عَلَى الْيَتِيمِ وَالْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ ، وَالصَّائِمِ الْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت و نگہداشت کرنے والا جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح (قریب) ہوں گے“، اور آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ایک ساتھ ملا کر اشارہ فرمایا، ”اور یتیم، بیوہ اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اور ان کی ضروریات کی فراہمی کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے، اور اس روزہ دار و شب بیدار کی طرح ہے جو (عبادت و ریاضت میں) کبھی سستی اور تھکن محسوس نہیں کرتا۔“
اس حدیث کے شواہد صحیح بخاری (5353) اور صحیح مسلم (2983) میں موجود ہیں، جس کی بنا پر یہ متن صحیح ہے، اگرچہ اس کی موجودہ سند میں لیث بن ابی سلیم اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔