المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإحسان إِلَى اليتيم باب: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَبُو أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَجْلَانَ الْهُجَيْمِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُفْتَحُ لَهُ بَابُ الْجَنَّةِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَتَأْتِي امْرَأَةٌ تُبَادِرُنِي فَأَقُولُ لَهَا : مَا لَكِ فَمَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا امْرَأَةٌ قَعَدْتُ عَلَى أَيْتَامٍ لِي " .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا، البتہ ایک عورت تیزی سے میری طرف آئے گی، تو میں اس سے دریافت کروں گا: تجھے کیا ہوا ہے اور تو کون ہے؟ وہ جواب دے گی: میں وہ عورت ہوں جو اپنے یتیم بچوں کی کفالت و پرورش کے لیے ان کے پاس بیٹھی رہی۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے ’سلسلہ احادیث صحیحہ‘ میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔