المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإحسان إِلَى اليتيم باب: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2563
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ بَيْتِ مَلِكٍ وَلَا نَبِيٍّ أَكْرَمَ مِنْ بَيْتٍ فِيهِ يَتِيمٌ " .ترجمہ
یحییٰ بن سعید بن دینار مولیٰ آلِ زبیر ایک ثقہ راوی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی بادشاہ یا کسی نبی کا گھر اس گھر سے زیادہ معزز و محترم نہیں ہو سکتا جس میں کوئی یتیم (پرورش پا رہا) ہو“۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (2563) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی کے مبہم ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، البتہ یتیم کی کفالت کی فضیلت دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔