المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإحسان إِلَى اليتيم باب: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2562
حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاصِلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ هَصَّانَ بْنِ كَاهِنٍ ، عَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا قَعَدَ يَتِيمٌ مَعَ قَوْمٍ عَلَى قَصْعَتِهِمْ فَيَقْرَبُ قَصْعَتَهُمْ شَيْطَانٌ " .ترجمہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی یتیم کسی قوم کے ساتھ ان کے کھانے کے بڑے پیالے پر نہیں بیٹھتا کہ پھر شیطان ان کے اس کھانے کے برتن کے قریب بھی آ سکے (یعنی یتیم کی برکت سے وہ کھانا شیطان کے اثر سے محفوظ رہتا ہے)۔“
اس حدیث کی سند میں حسن بن واصل بصری ضعیف راوی ہے، اس لیے علمی و فنی طور پر یہ روایت سندا ضعیف ہے۔