المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الإحسان إِلَى اليتيم باب: یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُمَحِيِّ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَفَلَ يَتِيمًا لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ الْإِصْبَعَيْنِ الْوُسْطَى ، وَالْمُسَبِّحَةِ الَّتِي تَلِيهَا .
2557 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو بِهِ .
هَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَخَالَفَهُ سُفْيَانُ ، عَنْ صَفْوَانَ .ام سعید بنت عمرو بن مرہ الجمحی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے کسی یتیم کی کفالت و سرپرستی کی، خواہ وہ (یتیم) اس کا اپنا کوئی عزیز رشتہ دار ہو یا کوئی اجنبی، میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح (قریب) ہوں گے“، اور آپ ﷺ نے درمیانی انگلی اور اس کے پہلو میں موجود شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند میں امیہ بن بسطام، یزید بن زریع اور محمد بن عمرو کے واسطے سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ محمد بن عمرو نے اسے اسی مذکورہ طریقے سے بیان کیا ہے، جبکہ امام سفیان نے صفوان سے روایت کرنے میں ان کی مخالفت کی ہے۔