المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ بر الوالدين باب: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2551
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَقَالَ : " حَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .ترجمہ
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی قوم کا حلیف (یعنی وہ شخص جس کا کسی قبیلے سے دوستی اور تعاون کا معاہدہ ہو) انہی میں سے شمار ہوتا ہے، اور کسی قوم کا بھانجا (بہن کا بیٹا) بھی انہی میں سے مانا جاتا ہے۔“
اس روایت کی سند میں کثیر بن عبد اللہ نامی راوی ضعیف ہے، البتہ اس حدیث کے شواہد صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں، جس کی بنا پر اس کا اصل مفہوم صحیح اور ثابت ہے۔