المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ بر الوالدين باب: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ : خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَاجًّا ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ أَتَى شَجَرَةً يَعْرِفُهَا ، فَجَلَسَ تَحْتَهَا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي جِئْتُ لِأُجَاهِدَ مَعَكَ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ; أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبَوَاكَ حَيَّانِ كِلَاهُمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاخْرُجْ فَبِرَّهُمَا " ، قَالَ : فَانْفَتَلَ رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ناعم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج کی نیت سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ مکہ اور مدینہ کے درمیانی راستے میں پہنچے تو ایک خاص درخت کے پاس آئے جسے وہ پہچانتے تھے اور اس کے سائے میں بیٹھ گئے، پھر انہوں نے (سابقہ واقعہ یاد کرتے ہوئے) فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی درخت کے نیچے (تشریف فرما) دیکھا تھا کہ اچانک ان پہاڑی راستوں میں سے ایک نوجوان شخص سامنے سے آیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا، اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں اس لیے حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ کی معیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروں اور اس کے ذریعے میں محض اللہ عزوجل کی رضا اور دارِ آخرت کا طلب گار ہوں“، آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے والدین دونوں زندہ ہیں؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر تم واپس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو“، راوی کہتے ہیں کہ وہ نوجوان (یہ سن کر) اسی راستے سے فوراً واپس مڑ گیا جہاں سے وہ آیا تھا۔
اس حدیث کے بنیادی شواہد صحیح بخاری [5972] اور صحیح مسلم [2549] میں موجود ہیں، جبکہ یہ مخصوص سیاق مسند احمد اور دیگر کتبِ احادیث میں حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔