المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ بر الوالدين باب: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ نَجِيحٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَشْتَهِي الْجِهَادَ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ بَقِيَ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ ؟ " قَالَ : أُمِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَبْلِ اللهَ فِي بِرِّهَا ، فَإِنْ أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ فَأَنْتَ حَاجٌّ وَمُعْتَمِرٌ وَمُجَاهِدٌ إِذَا رَضِيَتْ عَنْكَ أُمُّكَ ، فَاتَّقِ اللهَ وَبَرَّهَا " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”میں جہاد کی شدید تڑپ اور خواہش رکھتا ہوں لیکن مجھ میں اس کی ہمت و استطاعت نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے والدین میں سے کوئی بقیدِ حیات ہے؟“ اس نے عرض کی: ”میری والدہ (زندہ) ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس تم ان کی خدمت اور حسنِ سلوک کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو اپنی بہترین کارکردگی دکھاؤ، کیونکہ اگر تم نے ایسا کر لیا اور تمہاری والدہ تم سے راضی ہو گئی تو تم حج کرنے والے، عمرہ کرنے والے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے ٹھہرو گے، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کو لازم پکڑو۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔