المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ بر الوالدين باب: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ هُوَ ابْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لِي : تَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ ، فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ " ، وَإِنَّهُ كَانَ بَيْنَ أَبِي عُمَرُ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصِلَ ذَلِكَ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ هُدْبَةَ بِهِ .ابو بردہ بن ابی موسیٰ اشعری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے پاس کیوں آیا ہوں؟“ میں نے عرض کیا: ”جی نہیں“، تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ (وفات کے بعد) اپنی قبر میں موجود اپنے والد کے ساتھ صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کرے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد ان کے بھائیوں (یعنی دوستوں اور قریبی ساتھیوں) کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔“ اور بلا شبہ میرے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے والد کے درمیان گہرا بھائی چارہ اور الفت و محبت کا رشتہ تھا، لہٰذا میں نے چاہا کہ میں اس تعلق اور صلے کو نبھاؤں۔“
اسے امام ابنِ حبان نے حسن بن سفیان کی سند سے ہدبہ سے روایت کیا ہے۔