❮
❯
حدیث نمبر: 2546
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَرْبٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ دَاجَةَ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي عِقَالُ بْنُ شَبَهِ بْنِ عِقَالِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْمُجَاشِعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَبِيهِ صَعْصَعَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ ، أَبَاكَ ، أُخْتَكَ ، أَخَاكَ ، أَدْنَاكَ ، أَدْنَاكَ " .
ترجمہ

سیدنا صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں سب سے زیادہ کس کے ساتھ نیکی اور حسنِ سلوک کروں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ، اپنے باپ کے ساتھ، اپنی بہن کے ساتھ، اپنے بھائی کے ساتھ، پھر جو (رشتہ داری میں) تم سے قریب تر ہو، پھر جو اس کے بعد قریب تر ہو۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں عقال بن شبہ اور ان کے والد موجود ہیں جن کی توثیق میں کلام ہے، تاہم اس کا متن دیگر مستند اور صحیح احادیث کے شواہد سے تقویت یافتہ ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2546
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 4، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 6626، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7413»