❮
❯
حدیث نمبر: 2545
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : كَانَ الْهُذَيْلُ بْنُ حَفْصَةَ يَجْمَعُ الْحَطَبَ فِي الصَّيْفِ فَيُقَشِّرُهُ ، وَيَأْخُذُ الْقَصَبَ فَيَفْلِقُهُ ، قَالَتْ حَفْصَةُ : فَكُنْتُ أَجِدُ قِرَّةً فَكَانَ يَجِيءُ بِالْكَانُونِ حَتَّى يَضَعَهُ خَلْفِي وَأَنَا أُصَلِّي ، وَعِنْدَهُ مَنْ يَكْفِيهِ لَوْ أَرَادَ ذَلِكَ ، فَيُوقِدُ لِي ذَلِكَ الْحَطَبَ الْمُقَشَّرَ وَالْقَصَبَ الْمُفَلَّقَ وَقُودًا يُدْفِئُنِي وَلَا يُؤْذِينِي الْحَرُّ ، قَالَتْ : فَرُبَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَرِفَ إِلَيْهِ ، وَأَقُولَ : يَا بُنَيَّ ، ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ ، ثُمَّ أَذْكُرُ مَا يُرِيدُ فَأُخَلِّي عَنْهُ ، وَكَانَ يَغْزُو وَيَحُجُّ ، فَأَصَابَتْهُ حُمَّى وَقَدْ حَضَرَ الْحَجُّ فَنَقِهَ ، فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى أَهَلَّ بِالْحَجِّ ، قُلْتُ : يَا بُنَيَّ ، كَأَنَّكَ خِفْتَ أَنْ أَمْنَعَكَ ، مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ، قَالَ : وَكَانَتْ لَهُ لَقْحَةٌ فَكَانَ يَبْعَثُ إِلَيَّ حَلْبَةً بِالْغَدَاةِ ، فَأَقُولُ يَا بُنَيَّ : إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّنِي لَا أَشْرَبُهُ وَأَنَا صَائِمَةٌ ، فَيَقُولُ : يَاأُمَّ الْهُذَيْلِ ، إِنَّ أَطْيَبَ اللَّبَنِ مَا بَاتَ فِي ضَرْعِ الْإِبِلِ ، اسْقِيهِ مَنْ شِئْتِ ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ رَزَقَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ مِنَ الصَّبْرِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَرْزُقَ ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أَجِدُ غُصَّةً لَا تَذْهَبُ ، فَبَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَقْرَأُ سُورَةَ النَّحْلِ ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ : وَلا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللهِ ثَمَنًا قَلِيلا إِنَّمَا عِنْدَ اللهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ قَالَتْ : فَأَعَدْتُهَا ، فَأَذْهَبَ اللهُ مَا كُنْتُ أَجِدُ .
ترجمہ

ہشام بن حسان سے روایت ہے کہ سیدہ حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ اپنے بیٹے ہذیل بن حفصہ کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ وہ گرمیوں کے موسم میں ایندھن کی لکڑیاں جمع کر کے ان کا چھلکا اتار لیتے اور سرکنڈوں کو لے کر انہیں چیر لیتے۔ سیدہ حفصہ کہتی ہیں کہ مجھے کبھی سردی محسوس ہوتی تو وہ انگیٹھی لا کر میرے پیچھے رکھ دیتے جب میں نماز پڑھ رہی ہوتی، حالانکہ ان کے پاس ایسے ملازمین موجود تھے جو اگر وہ چاہتے تو یہ کام کر دیتے، لیکن وہ خود ہی وہ چھلی ہوئی لکڑیاں اور چیرے ہوئے سرکنڈے جلاتے تاکہ وہ ایندھن مجھے گرم رکھے اور اس کی گرمی مجھے اذیت نہ دے۔ وہ کہتی ہیں کہ بسا اوقات میرا ارادہ ہوتا کہ میں ان کی طرف متوجہ ہوں اور کہوں کہ ”اے میرے پیارے بیٹے! اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ“، لیکن پھر مجھے ان کی نیک نیتی اور خدمت کا جذبہ یاد آ جاتا تو میں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتی۔ وہ جہاد اور حج بھی کیا کرتے تھے، ایک دفعہ حج کا موقع آیا تو انہیں بخار ہو گیا، پھر جب بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو مجھے علم نہ ہوا یہاں تک کہ انہوں نے حج کا تلبیہ پکار لیا، میں نے کہا: ”اے میرے بیٹے! ایسا لگتا ہے کہ تم ڈر رہے تھے کہ کہیں میں تمہیں روک نہ دوں، میں ایسا ہرگز نہ کرتی“۔ ان کے پاس دودھ دینے والی ایک اونٹنی تھی، وہ روزانہ صبح کے وقت دودھ کا ایک پیالہ مجھے بھیجتے، میں کہتی: ”اے میرے بیٹے! تم جانتے ہو کہ میں روزے سے ہوں اور یہ دودھ نہیں پیوں گی“، تو وہ کہتے: ”اے ام ہذیل! سب سے بہترین دودھ وہ ہے جو رات بھر اونٹنی کے تھنوں میں رہا ہو، آپ اسے جسے چاہیں پلا دیں“۔ سیدہ حفصہ کہتی ہیں کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی وفات پر مجھے حسبِ توفیق صبر عطا فرمایا، مگر میرے سینے میں ایک کسک اور گھٹن سی باقی تھی جو ختم نہیں ہوتی تھی۔ ایک رات میں نماز پڑھ رہی تھی اور سورہ النحل کی تلاوت کر رہی تھی، یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچی: ﴿وَلَا تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللهِ ثَمَنًا قَلِيلًا إِنَّمَا عِنْدَ اللهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ * مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سورة النحل: 95-96] ”اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت نہ لو، یقیناً جو اللہ کے پاس ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے، اور ہم ثابت قدم رہنے والوں کو ان کے بہترین اعمال کے بدلے ان کا اجر ضرور دیں گے“۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس آیت کو بار بار دہرایا تو اللہ تعالیٰ نے میرا وہ سارا دکھ اور قلبی بوجھ دور فرما دیا جو میں محسوس کر رہی تھی۔
یہ روایت امام بیہقی نے 'شعب الایمان' اور ابن ابی الدنیا نے 'التعزی' میں نقل کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2545
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»