المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ بر الوالدين باب: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَبَاكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أَدْنَاكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ " .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسنِ سلوک اور نیکی کا معاملہ کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ۔“ اس نے دریافت کیا: پھر اس کے بعد کون سب سے زیادہ حق دار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ۔“ اس نے پھر دریافت کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ۔“ اس نے پھر عرض کیا: پھر اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو مرتبے میں تمہارے سب سے زیادہ قریب ہو۔“ اس نے پھر دریافت کیا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پہلے وہ جو سب سے زیادہ قریبی ہو، پھر وہ جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو۔“
امام الحارث بن ابی اسامہ نے اسے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 821) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عون بن عمارہ البصری ضعیف راوی ہے، نیز یہ روایت مرسل ہے، تاہم اس کا بنیادی مفہوم صحیح بخاری (5971) اور صحیح مسلم (2548) کی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔