❮
❯
حدیث نمبر: 2544
وَقَالَ الْحَارِثُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمَّكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أَبَاكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أَدْنَاكَ " قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ " .
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسنِ سلوک اور نیکی کا معاملہ کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ۔“ اس نے دریافت کیا: پھر اس کے بعد کون سب سے زیادہ حق دار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ۔“ اس نے پھر دریافت کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ۔“ اس نے پھر عرض کیا: پھر اس کے بعد کون؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو مرتبے میں تمہارے سب سے زیادہ قریب ہو۔“ اس نے پھر دریافت کیا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پہلے وہ جو سب سے زیادہ قریبی ہو، پھر وہ جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو۔“
امام الحارث بن ابی اسامہ نے اسے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 821) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عون بن عمارہ البصری ضعیف راوی ہے، نیز یہ روایت مرسل ہے، تاہم اس کا بنیادی مفہوم صحیح بخاری (5971) اور صحیح مسلم (2548) کی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 1897، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 5139، وأخرجه مسند أحمد برقم: 19524، 19544، وأخرجه فتح الباري برقم: 5626، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20121، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 6763، 7324، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 599، 1094، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 1667، وأخرجه شرح السنة برقم: 3417، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5028»