❮
❯
حدیث نمبر: 2530
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَبَى بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلِّمْنِي ، فَإِنِّي أَعْرَابِيٌّ جَافٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِ اللهَ ، وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، وَلَوْ أَنْ تَصُبَّ مِنْ إِنَائِكَ فِي إِنَاءِ صَاحِبِكَ ، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ بِوَجْهِكَ ... الْحَدِيثَ " .
2530 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ هُوَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، بِهَذَا ، وَزَادَ : " وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ فَعَيَّرَكَ بِمَا هُوَ يَعْلَمُهُ مِنْكَ ، فَلَا تُعَيِّرْهُ بِأَمْرٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ يَكُونُ وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَآخِرُهُ لَكَ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے سامنے گوٹھ مار کر (دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ لگا کر) بیٹھ گیا، پھر اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے (دین کی) تعلیم دیجیے، کیونکہ میں ایک اجڈ اور سخت مزاج دیہاتی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور نیکی کے کسی بھی کام کو ہرگز معمولی نہ سمجھو، خواہ وہ تمہارا اپنے برتن سے اپنے ساتھی کے برتن میں (پانی وغیرہ) انڈیل دینا ہی ہو، اور یہ بھی کہ تم اپنے بھائی سے اس حال میں ملو کہ تمہارا چہرہ اس کے لیے بشاشت اور مسکراہٹ سے کھلا ہوا ہو...“ (مکمل حدیث)۔
اور امام ابو یعلیٰ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہے اور تمہارے اس عیب کے ذریعے تمہیں شرمندہ کرے جسے وہ تمہارے بارے میں جانتا ہو، تو تم اسے اس (عیب) کے ذریعے ہرگز شرمندہ نہ کرو جسے تم اس کے بارے میں جانتے ہو، کیونکہ اس حرکت کا وبال اسی (گالی دینے والے) پر ہوگا اور اس کا بہتر انجام (اور اجر) تمہارے لیے ثابت ہوگا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2530
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 4075، وأخرجه مسند أحمد برقم: 20109، وأخرجه فتح الباري برقم: 5456، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 9920، 9921، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4037/3»