المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ بر الوالدين باب: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ .
2531 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ طَيْسَلَةَ بْنِ مَيَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّجَدَاتِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : فَلَمَّا رَأَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَرَقِي ، قَالَ : " أَتَخَافُ أَنْ تَدْخُلَ النَّارَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَفَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَحَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ فَقُلْتُ : عِنْدِي أُمِّي ، فَقَالَ : " وَاللهِ لَئِنْ أَلَنْتَ لَهَا الْكَلَامَ ، وَأَطْعَمْتَهَا الطَّعَامَ ، لَتَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ ، مَا اجْتَنَبْتَ الْمُوجِبَاتِ " .طیسلہ بن میاس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نجدات (خوارج کے ایک گروہ) کے ساتھ تھا، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی؛ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میری گھبراہٹ اور پریشانی دیکھی تو مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ آگ (جہنم) میں داخل ہو جاؤ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم جنت میں داخل ہونا پسند کرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے پاس میری والدہ موجود ہیں، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تم نے ان کے ساتھ گفتگو میں نرمی اختیار کی اور انہیں کھانا کھلایا، تو تم یقیناً جنت میں داخل ہو جاؤ گے، بشرطیکہ تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جو جہنم کو واجب کر دینے والے (موجبات) ہیں۔“
اس حدیث کو امام مسدد اور امام اسحاق بن راہویہ دونوں نے اسماعیل بن علیہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔