المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ المسلم عَلَى المسلم باب: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ شُعْبَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِ ، لَدَيْهِ حَاجَتُهُ ، كَانَ لَهُ عَلَيْهِ أَنْ يَتَكَلَّفَ ; يَفْرَحُ لِفَرَحِهِ ، وَيَحْزَنُ لِحُزْنِهِ ، وَهُوَ مِرْآةُ أَخِيهِ ، إِنْ رَأَى فِيهِ مَا لَا يُعْجِبُهُ سَدَّدَهُ ، وَقَوَّمَهُ وَوَجَّهَهُ ، وَخَاصَمَهُ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ " .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک ایک مومن دوسرے مومن کا ایک حصہ ہے، اس کی حاجت و ضرورت اسی کے پاس ہوتی ہے؛ اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی خاطر مشقت اور تکلیف برداشت کرے؛ وہ اس کی خوشی پر مسرور ہوتا ہے اور اس کے رنج و الم پر غمگین ہوتا ہے، اور وہ اپنے بھائی کا آئینہ ہے، اگر وہ اس میں کوئی ایسی بات دیکھتا ہے جو اسے ناپسند ہو تو وہ اس کی اصلاح کرتا ہے، اسے سیدھا کرتا ہے اور اس کی درست سمت میں رہنمائی کرتا ہے، نیز پوشیدہ اور اعلانیہ ہر حال میں حق کے معاملے میں اس سے گفتگو اور محاسبہ کرتا ہے۔“
تخریج: یہ اثر امام عبد اللہ بن مبارک نے ’الزهد والرقائق‘ میں روایت کیا ہے (2529/2540)، نیز اسے امام بیہقی نے ’شعب الایمان‘ میں نقل کیا ہے، اور اس کی سند جید ہے۔