المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ المسلم عَلَى المسلم باب: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2526
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَصَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ نَصَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی اس کی غیر موجودگی میں (یعنی اس کے پیٹھ پیچھے) مدد و نصرت کرے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا، اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے (یعنی اس کے عیوب و لغزشوں کو چھپائے)، اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں راوی اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہے، تاہم اس حدیث کا مفہوم دیگر صحیح احادیث و شواہد سے ثابت ہے۔