المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ حَقٌّ المسلم عَلَى المسلم باب: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي ضُعَفَاءَ الْمُسْلِمِينَ ، وَيَعُودُ مَرْضَاهُمْ ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ .
2525 \ 2 - وَقَالَ إِسْحَاقُ : وَذُكِرَ لَنَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَذْكُرُ ، يَعْنِي عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
قُلْتُ : طَرِيقُ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ أَسْنَدَهَا أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَسُفْيَانُ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ ، لَكِنَّهُ يَقْوَى بِرِوَايَةِ الْوَلِيدِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ .سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ (نهایت تواضع و انکساری کے ساتھ) مسلمانوں کے نادار اور کمزور طبقے کے پاس بذاتِ خود تشریف لے جایا کرتے تھے، ان کے بیماروں کی عیادت فرماتے تھے اور ان کے جنازوں میں شریک ہوتے تھے۔“ امام اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان بن حسین کی سند سے امام زہری، پھر ابو امامہ اور پھر ان کے والد (سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی کے مانند روایت مروی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ سفیان بن حسین والے اس طریق کو امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی نے اپنی اسناد کے ساتھ موصولاً ذکر کیا ہے؛ اگرچہ امام زہری سے روایت نقل کرنے میں سفیان بن حسین کی یادداشت میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے، لیکن ولید بن مسلم کی امام اوزاعی سے مروی سابقہ روایت اس کی تقویت کا باعث بنتی ہے جس سے اس کی سند مضبوط ہو جاتی ہے۔