المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البر والصلة— نیکی اور صلہ رحمی کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ قطيعة الرحم باب: رشتہ داری توڑنے اور قطعِ رحمی کرنے پر وعید اور اس سے ڈرانے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ جَهْمٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ تُنَاشِدُهُ حَقَّهَا ، فَيَقُولُ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ، وَمَنْ وَصَلَكِ فَقَدْ وَصَلَنِي ، وَمَنْ قَطَعَكِ فَقَدْ قَطَعَنِي " .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رشتہ داری (رحم) اللہ رحمن کے دامنِ قدرت سے وابستہ ایک شاخ ہے جو اللہ تعالیٰ سے اپنے حق کی التجا کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ جو تجھے جوڑے میں اسے اپنی رحمت سے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں اسے اپنی رحمت سے کاٹ دوں؟ اور جس نے تجھے جوڑا اس نے یقیناً مجھے جوڑا اور جس نے تجھے کاٹا اس نے یقیناً مجھ سے ناطہ توڑ لیا۔“
اس روایت کو امام ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف ہے، تاہم صلہ رحمی کی فضیلت کے حوالے سے اس کے شواہد صحیحین میں موجود ہیں۔