❮
❯
حدیث نمبر: 2520
( 103 ) حَدِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ .
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي إِدَامٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَنْزِلُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ رَحِمٍ " .
2520 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِدَامٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ رَحِمٍ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلْسَانِهِ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لِي خَالَةٌ لَمْ أُكَلِّمْهَا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ إِلَيْهَا فَكَلِّمْهَا " .
قُلْتُ : أَبُو إِدَامٍ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ الْمُحَارِبِيُّ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي " الْأَدَبِ الْمُفْرَدِ " .
( 104 ) وَحَدِيثُ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَقَدَّمَ فِي الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے ایسی قوم پر نازل نہیں ہوتے جن میں رشتہ داری توڑنے والا (قطع رحمی کرنے والا) شخص موجود ہو۔“ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی قوم پر نازل نہیں ہوتی جس میں رشتہ ناطہ توڑنے والا موجود ہو۔“ یہ سن کر آپ ﷺ کی مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خالہ ہیں جن سے میرا کلام بند ہے (یعنی میں نے ان سے تعلق توڑ رکھا ہے)؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اٹھ کر ان کے پاس جاؤ اور ان سے بات چیت (اور صلح) کرو۔“
(103) سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما کی حدیث کتاب الحج میں پہلے گزر چکی ہے۔
ابوبکر نے کہا: ہمیں حفص بن غیاث نے ابوادام الازدی سے، انہوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی۔
احمد بن منیع نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے، انہوں نے ابوادام الازدی سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رحمت اس قوم پر نازل نہیں ہوتی جس میں قطع رحمی کرنے والا موجود ہو۔“
ابوادام کا نام سلیمان بن یزید المحاربی ہے اور اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی کتاب ”الادب المفرد“ میں روایت کیا ہے۔
(104) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کتاب الزکاۃ کے باب ”صدقہ کی ترغیب“ میں پہلے گزر چکی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2520
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13451، 13452، وأخرجه شرح السنة برقم: 3440»