❮
❯
حدیث نمبر: 2519
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَسَأَلَهُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَمَتَّ لَهُ بِرَحِمٍ بَعِيدَةٍ ، فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْرِفُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ ; فَإِنَّهُ لَا قُرْبَ لِلرَّحِمِ إِذَا قُطِعَتْ وَإِنْ كَانَتْ قَرِيبَةً ، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ وَإِنْ كَانَتْ بَعِيدَةً " .
صَحِيحٌ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا تو انہوں نے اس سے دریافت فرمایا کہ ”تم کون ہو؟“ اس شخص نے ایک دور کی رشتہ داری کا واسطہ دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے بڑی نرمی اور شفقت کے ساتھ گفتگو فرمائی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اپنے نسبوں اور شجرہ ہائے نسب کی معرفت حاصل کرو تاکہ تم ان کے ذریعے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کر سکو؛ کیونکہ رشتہ داری میں اس وقت کوئی نزدیکی اور قربت باقی نہیں رہتی جب اسے توڑ دیا جائے اگرچہ وہ رشتہ بظاہر کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو، اور اس میں کوئی دوری رکاوٹ نہیں بنتی جب اسے جوڑ کر رکھا جائے اگرچہ وہ رشتہ کتنا ہی دور کا کیوں نہ ہو۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2519
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ . »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 300، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 20648، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2880»