❮
❯
حدیث نمبر: 2518
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ خَالِدٍ الطَّاحِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، مِنْ خَثْعَمَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيمَانٌ بِاللهِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ صِلَةُ الرَّحِمِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَبْغَضُ إِلَى اللهِ تَعَالَى ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللهِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " قَطِيعَةُ الرَّحِمِ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْرٌ بِالْمُنْكَرِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمَعْرُوفِ " .
ترجمہ

قبیلہ خثعم کے ایک شخص (صحابی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، میں نے دریافت کیا: کیا آپ ہی وہ شخصیت ہیں جو یہ فرماتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا“، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رشتہ داریوں کو توڑنا اور قطع رحمی کرنا“، میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کون سا عمل سب سے زیادہ مبغوض ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”برائی کا حکم دینا اور بھلائی (نیکی کے کاموں) سے روکنا“۔
تخریج: مسند ابویعلی: 2518، مسند احمد: 15855، المستدرک للحاکم: 1/51، شعب الایمان للبیہقی: 7100؛ علامہ البانی نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البر والصلة / حدیث: 2518
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لغيره. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13453، 13454، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5»