المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْهُذَلِيِّ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَتَبْتُ فِي الصَّلَاةِ ، وَأَحَقُّ مَا تَعَاهَدَ الْمُسْلِمُونَ أَمْرَ دِينِهِمْ ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، حَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ مَا حَفِظْتُ ، وَنَسِيتُ مِنْهُ مَا نَسِيتُ ، فَصَلِّ الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ ، وَالْعِشَاءَ مَا لَمْ تَخَفْ رُقَادَ النَّاسِ ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ ، وَأَطِلِ الْقِرَاءَةَ فِيهَا .سیدنا حارث بن عمرو ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی جانب مکتوب روانہ کیا کہ: ”میں نے تمہیں نماز کے متعلق لکھا ہے، اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ اہمیت و پاسداری کے لائق چیز ان کے دین کا معاملہ ہے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز ادا فرماتے ہوئے دیکھا ہے، اس میں سے جو میں یاد رکھ سکا وہ مجھے یاد ہے اور جو میں (بشری تقاضے سے) بھول گیا وہ بھول گیا۔ پس تم ظہر کی نماز «بِالْهَجِيرِ» ”سخت تپش اور دوپہر ڈھلنے کے وقت“ ادا کرو، عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب «وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ» ”سورج روشن اور ترو تازہ یعنی زردی مائل ہونے سے پہلے ہو“، مغرب کی نماز «لِفِطْرِ الصَّائِمِ» ”روزہ دار کے افطار کے وقت یعنی سورج غروب ہوتے ہی“ پڑھو، عشاء کی نماز اس وقت تک موخر کر کے پڑھو جب تک تمہیں لوگوں کے سو جانے کا اندیشہ نہ ہو، اور صبح فجر کی نماز «بِغَلَسٍ» ”پو پھٹنے کے بعد چھائے ہوئے اندھیرے میں“ ادا کرو اور اس میں قرآت کو طویل رکھو۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں موجود راوی ثقہ ہیں۔