المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
[وَقَالَ إِسْحَاقُ ] : أَخْبَرَنِي بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ [وَ] بْنُ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : [قُمْ] فَصَلِّ ، وَذَلِكَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ حِينَ مَالَتْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا " الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
252 \ 2 - تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ عِنْدَ الْبَيْهَقِيِّ وَسَاقَهُ بِطُولِهِ .
قُلْتُ : وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ ، مِنْ غَيْرِ بَيَانِ الْأَوْقَاتِ ، وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِهِ بِبَيَانِ الْأَوْقَاتِ ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِأَبِي دَاوُدَ ، وَأَخْرَجْتُهُ لِلْفَائِدَةِ .
252 \ 3 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، [قَالَ] : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَهُ مُطَوَّلًا .سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اٹھیے اور نماز ادا کیجیے“، اور یہ سورج ڈھلنے کے وقت کا واقعہ ہے جب وہ اپنے مرکز سے مائل ہو گیا تھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں“، راوی نے مکمل طویل حدیث بیان کی ہے۔
اسماعیل بن ابی اویس نے سلیمان کے واسطے سے امام بیہقی کے ہاں اس کی متابعت کی ہے اور وہاں اسے مفصل بیان کیا گیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں بشیر بن ابی مسعود کی حدیث سے مروی ہے لیکن وہاں اوقات کی تعیین مذکور نہیں ہے، جبکہ امام ابوداؤد نے اسے اوقات کی وضاحت کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہ سند امام ابوداؤد کی روایت کے لیے ایک عمدہ شاہد ہے، میں نے اسے علمی فائدے کی خاطر یہاں نقل کیا ہے۔
نیز حارث نے داؤد بن محبر، حماد بن سلمہ، یحییٰ بن سعید اور ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے۔۔۔ پھر انہوں نے پوری تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کی۔