المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّهَا مَعِي الْيَوْمَ وَفِي غَدٍ " فَلَمَّا كَانَ بِقَاعِ نَمِرَةَ بِالْجُحْفَةِ صَلَّاهَا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذِي طُوًى أَخَّرَهَا ، حَتَّى قَالَ النَّاسُ : أَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالُوا : لَوْ صَلَّيْنَاهَا ، فَخَرَجَ فَصَلَّاهَا أَمَامَ الشَّمْسِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " مَاذَا قُلْتُمْ ؟ " قَالُوا : قُلْنَا : لَوْ صَلَّيْنَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ فَعَلْتُمْ أَصَابَكُمْ عَذَابٌ " ، ثُمَّ دَعَا السَّائِلَ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " .سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے نمازِ فجر کے وقت کے متعلق دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آج اور کل میرے ساتھ یہ نماز ادا کرو۔“ چنانچہ جب آپ ﷺ مقامِ جحفہ میں قاعِ نمرہ کے مقام پر تھے تو آپ ﷺ نے فجر کی نماز عین طلوعِ فجر کے وقت (اول وقت میں) ادا فرمائی، پھر جب ہم ذی طویٰ کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے اس نماز میں اس قدر تاخیر فرمائی کہ لوگ (تشویش کے عالم میں) کہنے لگے: کیا رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک قبض کر لی گئی ہے؟ اور وہ آپس میں کہنے لگے: کاش کہ ہم (خود ہی) نماز پڑھ لیتے۔ پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور سورج طلوع ہونے سے ذرا پہلے نماز ادا فرمائی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر دریافت فرمایا: ”تم لوگ کیا کہہ رہے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے کہا تھا کہ کاش ہم (خود ہی) نماز پڑھ لیتے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم ایسا کر گزرتے تو تم پر عذاب نازل ہو جاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے سوال کرنے والے شخص کو بلایا اور ارشاد فرمایا: ”نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن عبد اللہ کا سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انقطاع موجود ہے، نیز ابن جریج کی تدلیس بھی ہے، تاہم اوقاتِ نماز کی تحدید کے حوالے سے اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے ثابت اور مؤید ہے۔