المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الكي باب: داغنے (یعنی گرم چیز سے جلا کر علاج کرنے) کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ : عَنْ شَيْخٍ ، عَنْ شَيْخٍ لَنَا لَمْ أُدْرِكْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى خَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدِ اكْتَوَى ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا وَكُرِهَ لَنَا هَذَا ؟ فَقَالَ خَبَّابٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اشْتَدَّ الْبَلَاءُ ، وَقَالَ الْأَطِبَّاءُ : لَا دَوَاءَ لَكَ إِلَّا هَذَا ، قَالَ عَبْدُ اللهِ : " مَا كُنْتُ أَخَافُكَ عَلَى هَذَا " .عمرو بن مرہ ایک شیخ سے، وہ اپنے ایک ایسے بزرگ (جن سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی تھی) سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا، انہوں نے (بیماری کے باعث جسم کو آگ سے) داغ رکھا تھا، تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابو عبداللہ! کیا آپ کے علم میں نہیں کہ ہمیں اس (داغنے) سے منع کیا گیا ہے اور اسے ہمارے لیے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے؟“ اس پر سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”آزمائش اور تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور اطباء کا کہنا تھا کہ اب آپ کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا علاج باقی نہیں رہا،“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ان کے زہد و تقویٰ کی بنا پر) فرمایا: ”مجھے آپ جیسے جلیل القدر شخص سے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ آپ ایسا کریں گے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند (رقم: 1049) میں کی ہے، اس کی سند میں دو راوی مبہم ہونے کی وجہ سے یہ ضعیف ہے۔