❮
❯
حدیث نمبر: 2507
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِمَّا تُعَالِجُونَ شِفَاءٌ ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ لَدْغَةٍ مِنْ نَارٍ تُصِيبُ أَلَمًا ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " .
ترجمہ

بنو سلمہ کے ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تمہارے ان ذرائع میں سے کسی میں شفا موجود ہے جن سے تم اپنا علاج معالجہ کرتے ہو، تو وہ سینگی لگانے والے کے نشتر کے لگائے ہوئے کٹ میں ہے، یا شہد کے ایک گھونٹ میں، یا آگ کے اس داغ میں ہے جو تکلیف کے مقام پر لگایا جائے، اور میں خود داغ لگوانے کو پسند نہیں کرتا۔“
اسے امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2507
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 5377، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 4086، وأخرجه مسند أحمد برقم: 14291، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8، وأخرجه فتح الباري برقم: 5377، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3876»