المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَوَاقِيتِ باب: نماز کے مقررہ اوقات کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّلَوَاتِ ، قَالَ : فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ بِنَهَارٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ انْتَظَرَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى قِيلَ : مَا يَحْبِسُهُ ؟ ثُمَّ صَلَّى ، ثُمَّ انْتَظَرَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى قِيلَ : مَا يَحْبِسُهُ ؟ ثُمَّ صَلَّى ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " قَالَ : هَا أَنَا ذَا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَهِدْتَنَا أَمْسِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَشَهِدْتَنَا الْيَوْمَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَيَّ ذَلِكَ أَرَدْتَ فَهُوَ وَقْتٌ ، وَمَا بَيْنَهُمَا وَقْتٌ " .ابو مجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا، راوی بیان کرتے ہیں کہ (تعلیم کی غرض سے) رسول اللہ ﷺ نے (پہلے دن) فجر کی نماز غلس یعنی صبح کی ابتدائی تاریکی میں ادا فرمائی، پھر عصر کی نماز دن کی روشنی میں (یعنی سورج کے بلند رہتے ہوئے) ادا فرمائی، جب اگلا دن ہوا تو آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں تاخیر فرمائی یہاں تک کہ (لوگوں کی طرف سے) کہا جانے لگا: ”انہیں کس چیز نے روک لیا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر عصر کی نماز میں بھی تاخیر فرمائی یہاں تک کہ کہا گیا: ”انہیں کس چیز نے روک رکھا ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں یہاں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم کل ہمارے ساتھ موجود تھے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اور کیا آج بھی تم ہمارے ساتھ موجود تھے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان میں سے جس (حد) کو بھی تم چاہو (اختیار کر لو) وہ نماز کا وقت ہے، اور ان دونوں کے درمیانی اوقات بھی نماز کا وقت ہیں۔“
مسند الحارث (زوائد الهيثمي): 249، اس روایت کی سند مرسل ہے کیونکہ ابو مجلز تابعی ہیں، تاہم اس مضمون کی دیگر مستند احادیث موجود ہیں جو اس کی تائید کرتی ہیں۔